بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آپ کے لیے منتخب کردہ دس اقوالِ زرّین پیش ہیں، جن کی تشریح انسانی نفسیات، تجربات اور جذبات کے تناظر میں کی گئی ہے۔
۔ علم1
علم ایک ایسا زیور ہے جو چوری نہیں ہو سکتا، تقسیم کرنے سے گھٹتا نہیں بلکہ بڑھتا ہے۔
تشریح
یہ قول علم کی اصل قدر کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا کے تمام مادی خزانے محفوظ نہیں رہتے، لیکن جو کچھ آپ کے دماغ میں ہے وہ ہمیشہ آپ کے ساتھ رہتا ہے۔ علم بانٹنے سے ختم نہیں ہوتا بلکہ اس کی روشنی پھیلتی ہے۔ جب آپ کسی کو کچھ سکھاتے ہیں تو آپ کا اپنا فہم بھی پختہ ہو جاتا ہے، اور معاشرے میں آپ کا احترام بڑھتا ہے۔ یہ انسان کو حقیقی عزت اور خوداعتمادی عطا کرنے والی دولت ہے۔
Explanation
This saying shows the true value of knowledge. Not all the material treasures of the world are preserved, but what is in your mind remains with you forever. Knowledge does not disappear by sharing, but its light spreads. When you teach someone something, your own understanding also becomes mature, and your respect in society increases. This is the wealth that gives a person true respect and self-confidence.
2۔ صبر
قول
صبر تلخ ہے مگر اس کا پھل شیریں ہوتا ہے۔
تشریح
زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب انتظار، تکلیف یا ناانصافی برداشت کرنا انتہائی کڑوا ہوتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ فوری ردعمل دے کر صورتحال کو بدل دیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ عجلت میں اٹھائے گئے قدم اکثر پچھتاوے کا سبب بنتے ہیں۔ صبر درحقیقت اندرونی طاقت، برداشت اور یقین کا امتحان ہے۔ جو شخص اس کڑوے گھونٹ کو پی لیتا ہے، اس کے انجام پر اُسے اطمینان، کامیابی یا پھر ایک بہتر سمجھ ضرور ملتی ہے، جو میٹھے پھل کی مانند ہوتی ہے۔
Explanation
There are moments in life when waiting, suffering, or enduring injustice is extremely bitter. The heart wants to react immediately and change the situation. But history is a witness that hasty steps often lead to regret. Patience is actually a test of inner strength, endurance, and conviction. The person who drinks this bitter sip, at the end of it, he definitely gets satisfaction, success, or a better understanding, which is like a sweet fruit.
3۔ محبت
قول
محبت وہ دریا ہے جس میں اترنے والا کبھی خشک نہیں رہتا۔
تشریح
محبت صرف ایک جذبہ نہیں، ایک وجودی تجربہ ہے۔ جس طرح دریا میں اترنے والا شخص پانی سے تر ہو جاتا ہے، اسی طرح حقیقی محبت (خواہ وہ رومانی ہو، والدین کی ہو، دوستی کی ہو یا خدا سے ہو) انسان کے اندر کی خشکی، خود غرضی اور اکیلے پن کو ختم کر دیتی ہے۔ یہ انسان کو دوسروں سے جوڑتی ہے، زندگی کو معنی دیتی ہے اور روح کو سیراب کرتی ہے۔ محبت کرنے والا ہمیشہ اپنے اندر ایک والہانہ تازگی محسوس کرتا
ہے۔
Explanation
Love is not just a feeling, it is an existential experience. Just as a person who steps into a river gets wet from the water, so true love (whether romantic, parental, friendly, or God-centered) eliminates the dryness, selfishness, and loneliness within a person. It connects a person to others, gives meaning to life, and nourishes the soul. The lover always feels a wonderful freshness within himself.
4۔ عمل
قول
عمل کی محرابیں اتنی اونچی بناؤ کہ نیت کے فرشتے بھی پرواز کرتے ہوئے تھک جائیں۔
تشریح
ہر انسان کے دل میں اچھے ارادے، بلند خواب اور نیتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ لیکن صرف نیت پر اکتفا کرنا نامکمل ہے۔ یہ قول ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہماری نیک نیتوں کو ایسے ٹھوس، بڑے اور بلند کاموں میں ڈھالا جائے کہ وہ دیکھنے والوں کو حیران کر دیں۔ جس طرح بلند محراب کو دیکھ کر آنکھیں چکا چوند ہو جاتی ہیں، اسی طرح عظیم الشان عمل دیکھ کر ہر شخص کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہی وہ میراث ہے جو دنیا میں ہمارا نام زندہ رکھتی ہے۔
Explanation:
Good intentions, lofty dreams and intentions keep arising in the heart of every human being. But being content with intentions alone is incomplete. This saying encourages us to mold our good intentions into such concrete, big and lofty deeds that they amaze the beholders. Just as the eyes become dazzled by seeing a high arch, similarly the intellect of every person is stunned by seeing a great deed. This is the legacy that keeps our name alive in the world.
5۔ وقت
قول
وقت ایک تیز رفتار تیر ہے جو واپس نہیں آتا، اسے ہدف تک پہنچانے والا ہی دانشمند ہے۔
تشریح
ہم میں سے ہر شخص اپنی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں یہ سوچتا ہے کہ "کاش میں نے فلاں وقت پر یہ کام کیا ہوتا۔" وقت بے رحم ہے، یہ رکتا نہیں، پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔ دانشمندی اس میں ہے کہ ہر گزرتے لمحے کو پہچانا جائے، اس کی قدر کی جائے اور اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا جائے۔ جو شخص وقت کو بے مقصد ضائع کرتا ہے، درحقیقت وہ اپنی زندگی کا سب سے قیمتی خزانہ ضائع کر رہا ہوتا ہے۔
Explanation:
Each of us at some point in our lives thinks, "I wish I had done this at such and such a time." Time is merciless, it does not stop, it does not look back. Wisdom lies in recognizing each passing moment, appreciating it, and using it to achieve our goals. A person who wastes time aimlessly is, in fact, wasting the most precious treasure of his life.
6۔ خاموشی
قول
خاموشی کبھی کبھار ہزاروں الفاظ سے زیادہ گویا ہوتی ہے۔
تشریح
ہمارا معاشرہ باتونی ہو چکا ہے، ہر کوئی اپنی بات منوانے میں لگا ہے۔ ایسے میں سکون اور وقار کی علامت "خاموشی" ایک طاقتور ہتھیار بن جاتی ہے۔ غصے کے موقع پر خاموشی ٹھنڈک پہنچا سکتی ہے، دکھ کے موقع پر خاموشی ہمدردی کا اظہار بن سکتی ہے، اور غلط فہمی کے موقع پر خاموشی دانشمندانہ فیصلہ ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات بغیر کچھ کہے بھی بہت کچھ کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ سمندر کی گہرائی کی مانند ہے جس کی تہہ میں قیمتی موتی چھپے ہوتے ہیں۔
Explanation:
Our society has become talkative, everyone is busy getting their point across. In such a situation, "silence", a symbol of peace and dignity, becomes a powerful weapon. Silence can bring coolness in times of anger, silence can be an expression of sympathy in times of sadness, and silence can be a wise decision in times of misunderstanding. Sometimes, a lot is said without saying anything. It is like the depths of the ocean, at the bottom of which precious pearls are hidden.
7۔ سخاوت
قول
دریا بن کر بہو، کنویں بن کر مت سڑو۔
تشریح
یہ انتہائی طاقتور اور تصویری قول ہے۔ کنواں محدود ہوتا ہے، اس کا پانی جامد ہوتا ہے، اور وہ صرف اپنی ضرورت پوری کرتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کا پانی بند ہو کر سڑنے لگتا ہے۔ جبکہ دریا بہتا ہے، راستے میں سب کو سیراب کرتا ہے، تازہ رہتا ہے اور آخرکار وسیع سمندر میں جا ملتا ہے۔ اسی طرح انسان کو چاہیے کہ وہ علم، محبت، مالی وسائل یا ہنر میں سے کسی کو بھی صرف اپنے تک محدود نہ رکھے۔ دوسروں کے لیے بہنے، بانٹنے اور دینے سے ہی زندگی میں برکت، تازگی اور وسعت آتی ہے۔
Explanation:
This is a very powerful and figurative saying. A well is limited, its water is stagnant, and it only fulfills its own needs. With the passage of time, its water becomes stagnant and begins to rot. While a river flows, irrigates everyone on its way, remains fresh and finally merges into the vast ocean. Similarly, a person should not limit any of his knowledge, love, financial resources or skills to himself. It is only by flowing, sharing and giving to others that life is blessed, refreshed and expanded.
8۔ خودشناسی
قول
اپنے آپ کو پہچان لو، تو پھر رب کو پہچاننے میں دیر نہ لگے گی۔
تشریح
جدید دنیا میں انسان باہر کی چمک دمک میں اپنے آپ کو کھو چکا ہے۔ یہ قول بنیادی سبق دیتا ہے کہ سب سے پہلے سفر اپنے اندر کی طرف ہونا چاہیے۔ اپنی کمزوریوں، طاقتوں، خواہشات اور مقصد کو سمجھنا۔ جب انسان اپنی حقیقت (کہ وہ ایک محدود، محتاج اور فانی مخلوق ہے) کو پہچان لیتا ہے، تو پھر اس کے لیے اپنے خالق کی عظمت، رحمت اور قدرت کو تسلیم کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ خودشناسی ہی خدا شناسی کا پہلا زینہ ہے۔
Explanation:
In the modern world, man has lost himself in the glitter of the outside world. This saying teaches the basic lesson that the first step should be to journey within. To understand one's weaknesses, strengths, desires and purpose. When man recognizes his reality (that he is a limited, needy and mortal creature), then it becomes easier for him to acknowledge the greatness, mercy and power of his Creator. Self-knowledge is the first step to God-knowledge.
9۔ آزمائش
قول
آگ ہر چیز کو خاکستر ہی نہیں کرتی، کچھ چیزوں کو کندن بھی بناتی ہے۔
تشریح
زندگی کے سخت ترین دور، بیماری، مالی پریشانی، رشتوں کی آزمائش—یہ سب آگ کے شعلوں کی طرح ہوتے ہیں۔ عام سوچ یہی ہے کہ یہ ہمیں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ لیکن تاریخ ایسے بے شمار افراد کے واقعات سے بھری پڑی ہے جنہوں نے مصائب کے ان شعلوں میں جل کر کُندن بنے ہیں۔ آزمائشیں درحقیقت ہمارے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں، ہمت اور استقامت کو باہر نکالتی ہیں۔ وہ ہمیں نرم لوہے سے مضبوط فولاد بنا دیتی ہیں۔
Explanation:
Life’s toughest times, illness, financial troubles, relationship trials—they are all like flames of fire. The common perception is that they burn us to ashes. But history is filled with countless examples of people who have been burned to ashes in the flames of suffering. Trials actually bring out the hidden talents, courage, and resilience within us. They turn us from soft iron into strong steel.
10۔ امید
قول
اندھیرا اس لیے نہیں ہوتا کہ روشنی ختم ہو گئی ہے، بلکہ اس لیے ہوتا ہے کہ نئی صبح ہونے والی ہوتی ہے۔
تشریح
یہ شاید سب سے زیادہ تسلی دینے والا قول ہے۔ جب زندگی میں مشکلات کا اندھیرا چھا جاتا ہے، تو لگتا ہے جیسے ہر طرف سے راستے بند ہو گئے ہیں، ہر روشنی بجھ گئی ہے۔ یہ قول ہمیں یہ خوبصورت سبق دیتا ہے کہ یہ اندھیرا دائمی نہیں ہے۔ یہ محض ایک تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ جس طرح رات کے بعد صبح یقینی ہے، اسی طرح ہر مشکل کے بعد آسانی کا وقت ضرور آتا ہے۔ امید کی یہی کرن ہمیں مشکل لمحات میں ڈٹے رہنے کی طاقت دیتی ہے۔
Explanation:
This is perhaps the most comforting saying. When the darkness of difficulties in life overwhelms us, it seems as if all paths are blocked, every light is extinguished. This saying teaches us a beautiful lesson that this darkness is not permanent. It is merely a precursor to a change. Just as morning is certain after night, similarly, after every difficulty, a time of ease definitely comes. This ray of hope gives us the strength to persevere in difficult moments.










Post a Comment